EducationIslamiat (AKUEB

Concept of Angels in Islam فرشتوں پر ایمان

Chapter 3, Belief in Angels (AKUEB, XI-XII, Islamiat)

This article defines the concept of angels in Islam; explains its importance; talks about important angels and their role. The article also explains how angels implement the commandments of Allah Almighty. 

لفظ ملائیکہ’ ملک ‘ کی جمع ہے ۔ ملک فر شتے کو کہتے ہیں جو اللہ کی نوری مخلوقات ہیں یعنی اللہ نے انھیں نور سے پیدا کیا ہے تاہم ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو اس کے منتخب پیغمبروں تک پہنچائے ۔ ملائیکہ اللہ کے حکم کے مطابق ہر وقت اس کی عبادت ، اطاعت اور حمد و ثناء کرتے ہیں ۔ اسی حوالے سے ارشادت خداوندی ہیں کہ 

 ا۔ ملاءکہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کو سجدہ کرتے ہیں ۔ ( اعراف ۔ ۶۰۲)

ب۔ ( ملاءکہ ) اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا حکم انھیں دیا گیا ہے ۔ (تحریم ۔۶)

ج۔ ملاءکہ اللہ کی نوری مخلوق ہیں لہٰذا ان پر ایمان لانا ہر مسلمان پر ضروری ہے اور یہ اس کے ایمان کا لازمی حصہ بھی ہے ۔

Importance of belief in angels in Islam : فرشتوں پر ایمان لانے کی اہمیت

فرشتوں کو اللہ نے نو ر سے تخلیق کیا ہے ۔ فرشتوں کا وجود تشخص رکھتا ہے ۔ ان کے مختلف گروہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے مختلف ذمہ داریاں تفویض کی ہیں ان کی اقسام اور تعداد بے شمار ہیں جنھیں شمارکرنا ناممکن ہے ۔

قرآن کریم میں تقریباََ ۰۰۱ سے زائد مقامات پر فرشتوں کا ذکر موجود ہے ۔ ارشادات خداوندی ہیں کہ

ا ۔ نیکی تو یہ ہے کہ ! انسان اللہ پر یقین رکھے ، اور روز قیامت پر اور فرشتوں پر اور کتاب اور نبیوں پر یقین رکھے ۔ ( البقرہ ۔ ۷۷۱)

ب ۔ اور جس نے اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور قیامت کے دن سے انکار کیا۔ تو بے شک وہ بڑی دور کی گمراہی میں پڑ گیا ۔ ( النساء ۔ ۶۳۱)

ج۔ اور جو فرشتے اس کے نزدیک ہیں ۔ وہ کبھی اس کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے ۔ اور نہ ہی تھکتے ہیں وہ شب وروز اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کسی وقت بھی نہیں رکتے ۔ (الانبیاء ۔ ۹۱ ۔ ۲)
ر۔ کوئی نفس ایسا نہیں ہے کہ ! جس پر نگہبان فرشتے نہ ہوں ۔ ( الطارق ۔ ۴)

س۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی مخلوقات میں فرشتوں سے زیادہ کثیر کوئی نہیں ۔ اور زمین پر کوئی چیز ایسی نہیں اگتی ہے کہ جس پر ایک موکل فرشتہ نہ ہو ۔ ( ابو شیخ ۔ مجمع الزوائد ،بزاز)

 ش۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ  بے شک کراماََ کاتبین کے سوا زمین میں  اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو درختوں سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ۔ 

Responsibilities of angels in Islam : فرشتوں کے نام اور ان کی ذمہ داری

درج ذیل میں اہم فرشتوں کے نام اور ان کی ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں۔

Important angels in Islam and their duties are discussed below:

حضرت جبرائیل علیہ السلام

 حضرت جبرا ائیل کو اللہ نے کئی ذمہ داریاں سونپی ہیں ۔ جن میں شامل انبیاء کرام پر وحی کے ذریعے اللہ کے پیغام کو پہنچانا ۔ اس کے علاوہ ہوا کی رفتار کو کنٹرول کرنا ۔ اور دیگر فرشتوں کو بھی ان کی ذمہ داریاں سونپنا اور انھیں ان کی ذمہ داریوں کا پابند بنانا وغیرہ شامل ہے ۔

 حضرت جبرائیل اللہ کے نزدیک نہایت امین اور ذی عزت ہیں ۔ جنھیں اللہ نے بڑی طاقت اور قوت سے نوازا ہے ۔ ارشادات خداوندی ہیں کہ

ا۔ بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتے کا قول ہے ۔ جو قوت والا ہے ۔ مالک عرش کے قریب ذی رتبہ ہے ۔ وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے ۔ اور وہ امین ہے ۔ ( التکویر ۔ ۹۱ ۔ ۱۲)

ب۔ اس کو ایک فرشتے نے تعلیم کی ۔ جو بڑا طاقت ور اور زبردست ہے ۔ (النجم ۔ ۵ ۔ ۶)

ج ۔ پس ان کا رفیق اللہ ہے ۔ اور جبرائیل ہے ۔ اور نیک مسلمان ہیں ۔ اور ان کے علاوہ نیک مددگار فرشتے بھی ہیں ۔ ( التحریم ۔ ۴)

حضرت میکائیل علیہ السلام

 حضرت میکائیل کو اللہ نے بارش،رزق اور نباتات پر فائز کیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ جو اللہ, اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہے تو اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے۔( البقرہ ۔ ۸۹)۔

حضرت اسرافیل علیہ السلام کو اللہ تعالی نے دیگر فرشتوں تک پیغام پہنچانے کی ذمہ داری اور روز قیامت صور پھونکنے کی ذمہ داری تفویض کی ہے ۔ ارشادخداوندی ہے کہ اور اس کا فرمودہ سچا ہے ۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا ۔ ( الانعام ۔ ۳۷)

اللہ تبارک و تعالی دوسری جگہ فرماتے ہیں “اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ۔ سوائے اس کے جیسے اللہ چاہے ۔ سب بے ہوش ہوجائیں گے۔” (الزمر ۔ ۸۶)

۰ جس دن صور پھونکا جائے گا ۔ ہم گناہ گاروں کو اس دن نیلی آنکھوں کے ساتھ اکھٹا کریں گے ۔ ( طہٰ ۔ ۲۰۱)

 حضرت عزرائیل علیہ السلام 

  حضرت عزرائیل علیہ السلام کو ملک الموت بھی کہا جاتا ہے اور آپ کے ذمہ تمام ذی روح کی ارواح کو قبض کرنا ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے کہ

ا۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچتی ہے تو اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کرلیتے ہیں اور اس میں وہ ذرا سی بھی کوتاہی نہیں کرتے ہیں ۔ ( انعام ۔ ۱۶)

ب ۔ اور اگر تو اس وقت دیکھے ۔ جب یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھارہے ہوں گے اور کہیں گے کہ جلدی اپنی روحوں کو نکالو ۔ ( انعام ۔ ۳۹)

ج ۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ! تمھاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے ۔ جو تم پر معین کردیا گیا ہے ،پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا کر لے جائے جاءو گے ۔ ( السجدہ ۔ ۱۱)

س ۔ اور اگر آپ ﷺ دیکھیں کہ ! جب فرشتے ان کافروں کی روحوں کو قبض کررہے ہوتے ہیں تو ان کے مونہوں اور پشتوں پر مکے مارتے جاتے ہیں ۔ ( انفال ۔ ۰۵)

ش ۔ اللہ شرک سے بچنے والوں کو جزا دے گا ۔ جن کی روح فرشتے ان کے شرک سے پاک ہونے کی صورت میں قبض کرتے ہیں ۔ اور ان سے کہتے ہیں کہ ! السلام علیکم ! تم جنت میں داخل ہوجاءو ۔ اپنے ان اعمال کے سبب جو تم کرتے تھے ۔ ( النحل ۔ ۱۳ ۔ ۲۳ )

Deeds recording angels in Islam: کراماََ کاتبین

 اللہ تعالی نے ہر انسان کے اعمال کو لکھنے اور اس کا درست حساب کتاب رکھنے کے لئے کراماََ کاتبین نامی فرشتوں کو مقرر کیا ہے ۔ ارشادخداوندی ہے کہ

ا ۔ اور بے شک تم پر نگہبان ہیں اور وہ کراماََ کاتبین ہیں۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتے ہیں۔ (انفطار۔۰۱ ۔ ۲۱)

ب۔ اور اللہ تم پر نگہداشت کرنے والے فرشتے بھیجتا ہے ۔ ( انعام ۔ ۱۶)

ج ۔ جب دو لینے والے آس پاس بیٹھے رہتے ہیں ۔ وہ کوئی لفظ منہ سے نکالنے نہیں پاتا کہ اس کے پاس ایک نگہبان نہ ہو ۔ اور موت کمی سختی آپہنچی جس کا آنا برحق ہے ۔ یہ وہ ہے کہ جس سے تو بدکتا ہے اور صور پھونکا جائے گا اور یہی وعید کا دن ہوگا اور ہر شخص اس طرح سے آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ اسے لانے والا اور ایک گواہ ہوگا ۔ ( ق ۔ ۷۱ ۔ ۲۲)

Implementation of Gods Commandments by Angels in Islam

 اللہ کے احکامات کا نفاذ اور فرشتے

 فرشتے اللہ کے ہر حکم کو بجا لاتے ہیں ان کے پاس انسانوں کی طرح ارادہ اور اختیار نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی نے جو کام اور عبادات انھیں سونپی ہوتی ہیں انھیں وہ بغیر کسی حجت کے ادا کرتے ہیں ۔ اسی حوالے سے ارشاد خداوندی ہے کہ (فرشتے ) کبھی اس کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے ۔ اور نہ ہی تھکتے ہیں وہ شب وروز اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کسی وقت بھی نہیں رکتے ۔ (الانبیاء ۔ ۹۱ ۔ ۰۲)

فرشتے چونکہ اللہ کی نوری مخلوق ہیں لہٰذا وہ اللہ کے ہر حکم کو پلک جھپکتے ہیں بجا لاتے ہیں اور اس میں ہرگز دیر نہیں کرتے ۔ تاہم کائنات کی ہر شے کے حساب کتاب کے لئے اللہ نے مختلف فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی ہے جو ہر چیز کا ریکارڈاپنے پاس رکھتے ہیں ۔ اسی حوالے سے ارشادخداوندی ہے کہ 

ا ۔ کوئی نفس ایسا نہیں ہے کہ ! جس پر نگہبان فرشتے نہ ہوں ۔ ( الطارق ۔ ۴)

ب ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ! اللہ کی مخلوقات میں فرشتوں سے زیادہ کثیر کوئی نہیں ۔ اور زمین پر کوئی چیز ایسی نہیں اگتی ہے کہ جس پر ایک موکل فرشتہ نہ ہو ۔( ابو شیخ ۔ مجمع الزوائد ،بزاز)

ج ۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ! بے شک کراماََ کاتبین کے سوا زمین میں اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو درختوں سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ۔ ( کشف الاستار عن زوائد البزار ۔ )

س ۔ مندرجہ بالا ارشادات خداوندی کو پڑھنے سے یہ اندازہ ہوا کہ ! کوئی ذی نفس ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگہبان فرشتہ نہ ہو ۔ یعنی یہ ثابت ہوا کہ ! کائنات میں پائی جانے والی ہر جاندار اور ذی شعور مخلوق کے اوپر فرشتے نگہبان موجود ہیں ۔ وہ ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے کئے گئے اعمال کو مرتب کرتے ہیں ۔ انسانوں پر نگہبان فرشتوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ انسانوں کی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے ارشاد خداوندی ہے کہ  اس کے پہرے دار تو آگے اور پیچھے مقرر ہیں جو اللہ کے امر سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ۔ ( رعد ۔ ۱۱)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button